پٹنہ: 24 /اپریل(ایس اونیوز /آئی این ایس انڈیا) مجاہد آزادی اور بہار کے سابق وزیر عبدالقیوم انصاری کے پوتے اور سابق وزیر خالد انور کے بیٹے تنویر انصاری جمعرات 25اپریل کو ڈہری اسمبلی حلقہ سے ضمنی انتخاب کے لئے پرچہ نامزدگی داخل کریں گے۔انہوں نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ انتخابی مہم کے دوران انہیں ہر طبقہ کے لوگوں کی بھرپور حمایت مل رہی ہے اور انہیں امید ہے کہ وہ زبردست اکثریت سے کامیاب ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ ڈہری کو ضلع بنانا ان کا خواب ہے۔ ڈہری اسمبلی حلقہ کے ضمنی انتخاب میں آزاد امیدوار کے طور پر اپنی قسمت آزمانے والے نوجوان تنویر انصاری نے کہا کہ ملک کی آزادی کے لیے ان کے اجداد نے لڑائی لڑی تھی۔ اس علاقے کی ترقی اور لوگو ں کی ترقی ہی ہمیشہ ان کا مقصد تھا۔ سرکاری ادارے بنانے کیلئے اپنی زمین بھی عطیہ میں دیا۔ ان کے ہی نقش قدم پر وہ بھی چلنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ڈالمیا نگر کا کارخانہ بند ہے اور یہاں ریل کارخانہ بھی بنائے جانے کا اعلان کیا گیا تھا جس پر آج تک عمل درآمد نہیں ہوا ہے۔ ہماری پوری کوشش ہوگی یہ دونوں پروجیکٹ بھی چالو ہو۔انہوں نے کہا کہ یہ بھی المیہ ہے کہ ضلع مجسٹریٹ اور آئی وغیرہ ڈہری میں بیٹھتے ہیں جبکہ ایس پی سہسرام میں۔ انہوں نے کہا کہ یہاں کے لوگو ں نے مجھے خدمت کا موقع دیا تو ڈہری کو ضلع بنانے کیلئے پوری کوشش کر اسے ضلع کا درجہ ضرور دلا ؤں گا۔انہوں نے کہا کہ آج کا دور ترقی کا ہے۔بہتر شخصیت کا ہے۔سیاست میں مہذب سماج کے لوگو ں کی زیادہ سے زیادہ حصہ داری ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ انہیں علاقے کے دورہ کے دوران کافی لوگوں کا تعاون مل رہا ہے۔ ان کے آباو اجداد نے ہمیشہ ہی سماج مفاد میں کام کیا۔ملک کی آزادی کے لئے لڑے۔ وزیر بھی بنے لیکن کبھی کسی گھوٹالہ میں جیل نہیں گئے۔لیکن اب یہ سیاست کی بدقسمتی ہے کہ جیل میں گئے وزیر کے بیٹے بھی الیکشن لڑ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہاں پر تعلیم و کسان و دیگر شعبہ کے لیے ابھی بہت کچھ کیا جانا ہے۔نوجوان بھی یہاں نظر انداز ہیں۔ بزرگ، خواتین ،پسماندہ سماج کو صرف ابھی بھی کافی مددکی ضرورت ہے۔ ان تمام مسائل کو دیکھتے ہوئے انہوں نییہاں سے انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا ہے